واشنگٹن،25مارچ(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)ایسے میں جب پولیس بدھ کے روز وسٹ منسٹر میں پارلیمان کی عمارت کے اندر ہونے والے حملے آور کے عزائم جاننے کی کوشش کر رہی ہے، جو برطانیہ میں پیدا ہونے والا ایک 52 برس کا والد تھا۔۔ شناخت، مذہب اور امی گریشن کے معاملے پر پھر سے زیر بحث آنے لگے ہیں، جو یورپی یونین سے علیحدگی پر دیے جانے والے ووٹ کے بعد زور و شور سے نمودار ہوئے ہیں۔اب بھی ہیلی کاپٹر آ جا رہے ہیں، جن میں پولیس اور اخباری نمائندے سوار ہیں، جب کہ ہلاک شدگان کے اہل خانہ اور پیاروں کے ساتھ تعزیت و ہمدردی کے لیے جمعرات کو ہزاروں شہری لندن کے ٹرفلگر اسکوائر میں جمع ہوئے، اس اظہارِ عزم کے لیے کہ شہر کی زندگی معمول کے مطابق رواں دواں رہے گی۔مشرف احمد اْن سینکڑوں مسلمانوں میں سے ایک تھے، جنھوں نے شمع جلانے کی رسم میں شرکت کی۔اْنھوں نے بتایا کہ ”اِن حملوں کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں۔ اسلام اس کے برعکس تعلیم دیتا ہے۔ اسلام امن کا پیغام دیتا ہے۔ اسلام کا مطلب ہی امن ہے“۔حملہ آور، خالد مسعود مشرف نے اسلام قبول کیا تھا، جن کی پیدائش لندن سے باہر ہوئی تھی، اور اْن کا نام ادریان رسل المس تھا۔مسعود تین بچوں کے والد ہیں، جن کو پْرتشدد چال چلن پر سزائیں ہو چکی تھیں، لیکن دہشت گردی سے تعلق نہیں رہا تھا۔